نئے اور حقیقی مواد کے ساتھ زبانیں قدرتی طور پر سیکھیں!

مقبول موضوعات
علاقے کے لحاظ से دریافت करें
ایران میں معاشی مشکلات اور بادشاہت کے مطالبات پر ہونے والے مظاہروں نے ایک مہلک کریک ڈاؤن کو جنم دیا، جس میں کم از کم 42 اموات اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔
دسمبر 2025 کے آخر اور جنوری 2026 کے اوائل میں ایران بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جو معاشی مشکلات کی وجہ سے شروع ہوئے اور جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کی کال سے شدت اختیار کی، جس کے نتیجے میں تہران اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔
مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے، ریاستی اقتدار کی علامتیں جلا دیں، اور بادشاہت کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس سے حکومت کے سخت کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا۔
حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور فون بلیک آؤٹ نافذ کر دیا، مواصلات منقطع کر دیا اور آزاد تصدیق میں رکاوٹ پیدا کی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے "دہشت گرد ایجنٹوں" کو تشدد بھڑکانے کا ذمہ دار ٹھہرایا، حالانکہ کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے کم از کم 42 سے 45 ہلاکتوں، سیکڑوں کے زخمی ہونے اور 2, 270 سے زیادہ گرفتاریوں کی اطلاع دی، جبکہ حکومت نے 21 ہلاکتوں کا اعتراف کیا۔
یہ بدامنی ایران کی مذہبی نظام کے لیے سالوں میں سب سے اہم چیلنج کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں حکومت کے ردعمل میں شدت کے ساتھ بین الاقوامی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
Protests in Iran over economic hardship and monarchy demands sparked a deadly crackdown, with at least 42 deaths and mass arrests.