نئے اور حقیقی مواد کے ساتھ زبانیں قدرتی طور پر سیکھیں!

مقبول موضوعات
علاقے کے لحاظ से دریافت करें
عدالتی انصاف پسندی اور ایگزیکٹو اتھارٹی کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ تحقیقات کی ٹائم لائنز مستثنیات ہیں، معیار نہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عدالتوں کو باقاعدگی سے تحقیقات کی ٹائم لائنز عائد نہیں کرنی چاہئیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس طرح کے اقدامات مستثنی ہیں، معمول نہیں۔
ٹائم لائنز صرف اس صورت میں جائز ہیں جب غیر ضروری تاخیر یا غیر فعال ہونے کا واضح ثبوت موجود ہو جس سے آرٹیکل 21 کے تحت تیزی سے مقدمے کی سماعت کو خطرہ لاحق ہو۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقات کو ان کی پیچیدگی کی وجہ سے لچک کی ضرورت ہوتی ہے اور شروع سے ہی ڈیڈ لائن طے کرنا ایگزیکٹو اتھارٹی کی خلاف ورزی ہوگی۔
اس نے عدالتی مداخلت کی ضرورت کو صرف اس وقت برقرار رکھا جب ملزم کو تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تفتیشی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے انصاف میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
فیصلے میں جبر کے اقدامات کے خلاف حفاظتی احکامات کو بھی دو ہفتوں تک محدود کر دیا گیا، جس کے بعد قانونی اقدامات کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔
Supreme Court rules investigation timelines are exceptions, not the norm, to protect judicial fairness and executive authority.